Home / آرٹیکلز / معاشرتی تحفظ

معاشرتی تحفظ

آج میں نے ایک 8 سے 10 سالہ بچی دیکھی جو جسمانی اعتبار سے 15 سالہ لگ رہی تھی اور وہ انتہای تنگ کرتی (قمیض) اور پٹیالہ شلوار میں ملبوس تھی ۔ بچی تندور والے کے پاس روٹیاں لگوا رہی تھی۔۔۔
ہرنی جب بچہ دیتی ہے تو قدرت کے اصول فوراً لاگو ہو جاتے ہیں اور اسے ان اصولوں کے ساتھ جینا پڑتا ہے اور جینا سیکھانا پڑتا ہے ۔ سب سے پہلے تو وہ بچہ تب پیدا کرتی ہے جب ہریالی ہر سو ہوتی ہے اور گھاس اتنی اونچی کہ اسکا بچہ اس میں چھپ جائے تاکہ وہ شکاریوں کی نظر میں نہ آئے ۔ بچہ بھی قدرتی طور پہ پہلے دن ہی چھلانگیں لگانا شروع کردیتا ہے بھاگنے کی پریکٹس ہونے لگتی ہے کیونکہ اسکی بقاء کے لیے یہ لازمی ہے۔۔۔

اونچی گھاس اسکو وہ وقت دیتی ہے کہ وہ آنے والے مشکل دور کے لیے خود کو چند دنوں میں تیار کرلے اور ماں اسے چند دنوں میں ہی خطرات سے آگاہی سیکھا دیتی ہے ماں بچے کو اونچی گھاس کا استمال ‘ جھنڈ سے جڑے رہنے کے فوائد ‘ شکاری کی شکل اور اسکی چالوں سے آگاہ کردیتی ہے۔ یوں وہ بچہ بڑا ہوکر بچ بچا کر اپنی نسل کے بقاء کے لیے کردار ادا کرتی یا کرتا ہے۔۔۔

ان سب احتیاطی تدابیر کے باوجود بھی اگر کوی شکار ہوجائے تو وہ قدرت کا قانون ہے تقاضے ہیں شکاری کو شکار چاہیے جو بھاگ سکتا ہے بھاگ جائے جو غافل ہوگا مارا جائے گا طاقت کا قانون ہے۔۔۔

ہرنی کا رونا بنتا ہے ۔

دوسری طرف ہم انسانوں کے بچے ہیں جو بڑے بہت دیر بعد ہوتے ہیں اور سمجھدار تو اور بھی دیر بعد ہوتے ہیں ۔

بات کا مقصد یہ ہے کہ آج میں نے ایک 8 سے 10 سالہ بچی دیکھی جو جسمانی اعتبار سے 15 سالہ لگ رہی تھی اور وہ انتہای تنگ کرتی (قمیض) اور پٹیالہ شلوار میں ملبوس تھی ۔ بچی تندور والے کے پاس روٹیاں لگوا رہی تھی۔۔۔

تندور پہ تین مرد تھے انکے بائیں طرف برابر میں دودھ والے کی دکان میں دو لڑکے تھے سامنے سبزی والا تھا اسکے برابر میں خالی پلاٹ پہ دس رکشے والے اسکے بعد دو الیکٹریشن ایک برف والا اور تندور والے کے دائیں طرف ایک سکول کا گارڈ بیٹھا تھا ۔ یہ تمام لوگ باہمی دلچسپی کے امور پہ آنکھوں سے گفتگو کررہے تھے اور انکی اس بصری گفتگو کا مرکزی خیال تھا۔۔۔ (پٹیالا شلوار)

کوئی بھی احتیاطی تدابیر استعمال کیے بنا اگر بچہ شکار ہو جائے تو اس پر ہرنی کا رونا بنتا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔

خدا کا واسطہ ہے محترم والدین، محترم بھائیو، محترم بہنو اپنے بچوں کی خود اچھی نگہداشت رکھو۔ اپنے بچوں کو معاشرے کے بھیڑیوں سے خود محفوظ رکھو۔ ورنہ آج کی کوئی کوتاہی خدا ناخواستہ کل کو کسی بہت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ھے۔۔۔

بچپن سے ہی اپنی بچیوں کو پردے کا سبق سکھاؤ اور جب بچیاں بڑی ہو جائیں تو خود بخود گھر سے باہر نکلتے وقت پردے اور برقعے کا اہتمام کریں۔۔۔

خدارا دین اسلام ایک نفیس ترین مذہب ہے اور الحمدلله ھمارا ہی دین ہے لہذا اس دین پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کے معاشرتی تحفظ کو یقینی بنائیے۔۔۔

اللہ ہم سب کے بچیوں بچوں کی حفاظت فرمائے

آمین ثمہ آمین

About admin

Check Also

عورت صرف بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے پہلے کیوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published.