انسان کی زندگی میں جتنی بھی پریشانیاں آتی ہیں ۔ ان کی وجہ خودا نسان کے اعمال ہی ہوتے ہیں۔ انسان زندگی میں ایسی غلطیاں اور گن اہ کرتا ہے جن کی وجہ سے ان کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھر کے اندر بے برکتی بھی انسان کی اپنی غلطی کی وجہ سے آتی ہے۔ اور یوں پورے گھر والوں کو غربت وافلاس کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا درہے کہ مرد کو اللہ تعالیٰ نے گھر کا سربراہ بنایا ہے۔ اور سربراہ ہونے کےناطے مرد کی ذمہ داری ہے گھر میں ایسی غلطی نہ ہونے دے۔ جس سے گھر کی برکتی ختم ہوسکتی ہے۔ اور جو غلطیاں گھر میں بے برکتی کا سبب بن سکتی ہیں۔ آپ کی توجہ چند ایسی غلطیوں کے بارے میں مبذول کرانے جارہے ہیں۔ جن کی غلطیوں کی وجہ سے گھر میں بے برکتی آتی ہے۔ اور یوں گھرو الوں کو مالی تنگی اور مالی پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔
مرد حضرات کو چاہیے کہ خو د بھی ان غلطیوں سے دور رہے ۔ اور گھر والوں کو بھی ان غلطیوں کو دہرانے سے منع کرے۔ گھر میں ایسے اعمال کریں ۔ جن سے گھر میں برکت آتی ہے۔ وہ کونسے غلطیاں ہیں جو گھر میں بے برکتیاں اور پریشانیوں کا باعث بنتی ہیں۔ اس بارے میں مکمل تفصیل جاننے کےلیے یہ آرٹیکل مکمل پڑھیں۔ اگر اسلامی تعلیمات پر غور کیا جائے۔تو ہرمومن کو یہ سبق ملتا ہے۔ کہ وہ قوت بازو اور اپنے خداداد جسمانی اور دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر زمین پر پھیلے ہوئے رزق الہیٰ میں سے اپنی پسند کے مطابق شرعاً جائز ذرائع سے اپنی اور اپنے بال وبچوں کی معاش کا اہتمام کرے۔ جس سلسلے میں اس راہ میں پیش آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کیا جائے ۔ بلکہ اسلامی ریاست کے لیے روزگار کے مواقع مہیا کرے ۔
جیسا کہ خود نبی کریم ﷺ نے ایک بے روزگار نوجوان صحابی کو وقتی طورپر مدد کرنے کےبجائے اس کا کمبل اور پیالہ بولی میں دو درہم میں فروخت کیا۔ ایک درہم سے اس کےخاندان کے لیے کھانےپینے کاسامان اور دوسرے سے کلہاڑی خرید کر اور خود دست نبوت سے اس میں دستہ لگا کر اسے لکڑیاں کاٹنے اور بازار بیچ کر کاروبار پر لگوایا۔ معلوم ہوا غربت وافلاس سے نجات کےلیے ضروری ہے کہ انسان اپنی بساط کے مطابق محنت و کوشش کرے ۔ اور ساتھ میں ایسے کاموں سے بچے جو تنگدستی کاباعث بنتے ہوں۔اورایسے کام کرے جن سے برکتی آتی ہے۔ اس کے بعد روزی دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ یاد رہے کہ خالق کائنات نے انسان کو پیدا کرکے اس کی فطرت میں کھانےپینے کے تقاضے رکھ کر اسے یو نہی اس کے اپنے حال پر نہیں چھوڑ ۔
بلکہ اس نے محض اپنے لطف وکرم سے اس کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ رزق کی فراہمی کےلیے کمال حکمت اور عجیب وغریب انداز میں زمین میں ایسی صلاحیت، برکت ، وسائل اور خزانے رکھ دیے ، جو کہ قیامت تک ختم نہیں ہوں گے۔ بلکہ اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اس رازق مطلق نے تو سارا نظام کائنا ت ہی انسان کی اس کی خدمت پر مامور فرما یا۔ اس لیے ضروری ہے کہ رزق حلا ل کے لیے کو شش کے ساتھ ساتھ ایسے کاموں اور ایسی غلطیوں سے بچا جائے جو گھر میں غربت اور بے برکتی آنے کا سبب ہے۔ آپ کو چند ایسی غلطیاں بتاتے ہیں جو گھر میں غربت آنے کی وجہ بنتی ہیں۔ ان غلطیوں میں بسم اللہ بغیر کھانا، غلط قسم کھانا، جوتاچپل الٹا دیکھ کر سیدھا نہ کرنا، حالت جنابت میں حجامت کرانا، مکڑی کا جالا گھر میں رکھنا، رات کو جھاڑو لگانا، اندھیرے میں کھانا، گھڑے میں منہ لگا کرپینا
قرآن مجید نہ پڑھنا، غسل خانے میں پیشاب کرنا، ٹوٹکی ہوئی کنگھی سے کنگھا کرنا، ٹوٹا ہوا سامان استعمال کرنا،رشتہ داروں سے بدسلوکی کرنا، دانت سے ناخن کاٹنا، کھڑے ہو پاجامہ پہننا، عورتوں کا کھڑے کھڑے بال باندھنا، پھٹے ہوئے کپڑے جسم پر سینا، صبح سورج نکلتے تک سونا، درخت کے نیچے پیشاب کرنا، بیت الخلاء میں باتیں کرنا، بائیں پیر سے پاجامہ پہننا، مغرب اور عشاء کے درمیان سونا، مہمان آنے پر ناراض ہونا، آمدنی سے زیادہ خرچ کرنا، دانت سے روٹی کا ٹ کرکھانا، چالیس دن سے زیادہ زیر ناف کے بال رکھنا، الٹا سونا، پینے کا پانی رات کو کھلے رکھنا
رات میں سوالی کو کچھ نہ دینا، برے خیالات کرنا ، بغیر وضو کے قرآن مجید پڑھنا، استنجاء کرتے وقت باتیں کرنا،ہا تھ دھوئے بغیر کھانا کھانا، اپنی اولا د کو کونسنا، دروازے پر بیٹھ کر لہسن پیاز کے چھلکے جلانا، فقیر سے روٹی یا کوئی اورچیز پھونکنا، پھونک سے چراغ بجھانا شامل ہے۔ رزق میں برکت کےلیے ہم وظائف کرتے ہیں۔ ہم ناجانے کیاکیا جتن کرتے ہیں رزق میں برکت کرنے کےلیے ضروری ہے۔ کہ پہلے رزق میں بے برکتی کے اسباب تلاش کیے جائیں ۔ تاکہ رزق میں بے برکتی کے اسباب معلوم ہوسکیں۔ اور ان اسباب سے اجتناب کیا جائے۔
Anmol Stories Pakistan's Best Story Website