Home / صحت / چیری کا استعمال حمل میں اتنا ضروری کیوں؟ چیری کا درست استعمال ۔ لا جواب فوائد۔

چیری کا استعمال حمل میں اتنا ضروری کیوں؟ چیری کا درست استعمال ۔ لا جواب فوائد۔

حمل کے دوران چیری ایک عورت اور بچے کے فائدے اور نقصان میں بھی ہوسکتی ہے۔ پھلوں کی خصوصیات اور استعمال کے اصولوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے ، اس کے بعد بیر کا اثر صرف مثبت ہوگا۔بچے کو لے جانے کی مدت کے آج ہم بات کر یں گے چیری کے بارے میں ۔ پریگنینسی کے دوران چیری کا استعمال کیا ضروری ہے؟ چیری ایک موسمی پھل ہے جو کہ گرمیوں میں تین ماہ تک رہتا ہے اور ابھی مارکیٹ میں دستیاب ہے اگر آپ امید سے ہیں تو چیری ضرور کھا ئیں کیونکہ چیری میں پر یگنینسی کے بہت سے فوائد موجود ہیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے ارض پاک کو گوناگوں پھلوں کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ اِس زمین کی منفرد مٹی میں پنپنے والے یہ پھل ذائقے اور غذائیت کے اعتبار سے پوری دنیا میں اپناثانی نہیں رکھتے۔ یہ مختلف النوع پھل معدنی نمکیات، وٹامنز اور دیگر اہم غذائی اجزا کا انمول خزانہ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پھل صحت و تندرستی کا ضامن بھی ہیں اور متعدد امراض سے شفا اور نجات کا ذریعہ بھی۔ قدرتی علاج کے تمام طریقوں میں پھلوں کے استعمال کو شروع ہی سے خاصی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ملک کے رسیلے اور صحت بخش پھلوں میں چیری بھی شامل ہے جسے اگر پہاڑی علاقوں کے پھلوں کا بادشاہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا۔ چیری کے درخت کا تعلق گلاب کے خاندان روزائی سے ہے، اسے جینس پرونس میں رکھا گیا ہے۔ اس جینس سے تعلق رکھنے والے کئی درختوں کے پھل کو چیری کہتے ہیں۔چونکہ اسی جینس میں آلوچہ، خوبانی، آڑو وغیرہ بھی شامل ہیں اس لیے اس جینس کے تمام پودوں کے پھل کو چیری نہیں کہا جاسکتا۔ دنیا بھر میں پائی جانے والے چیری کی انواع کی تعداد کافی زیادہ ہے، ان میں سے درج ذیل انواع قابلِ ذکر ہیں جنگلی یا مٹھی چیری ترش چیری کالی چیری،چیری ایشیا، یورپ، آسٹریلیا اور شمالی امریکا سمیت دنیا کے بیش تر حصوں میں پائی جاتی ہے۔

اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے چیری کا گودا زیادہ تر پانی پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ایک سرخ مواد اینتھوسیاننز، کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، وٹامنز، نمکیات، نامیاتی تیزاب، فینولک مرکبات، بائیو فلیوونائیڈز، میلاٹونِن وغیرہ پائے جاتے ہیں۔چیری میں موجود شکریات میں گلوکوز اور فرکٹوز وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چیری توانائی کے فوری حصول کا ذریعہ ہے۔ چیری کے موسم میں اگر کوئی شخص جسمانی یا ذہنی کام کی بدولت تھکاوٹ محسوس کررہا ہو تو چند عدد چیری اسے تازگی بخش سکتی ہیں۔چونکہ چکنائی چیری میں کم مقدار میں شامل ہے اور یہ فیٹی ایسڈز پر مشتمل ہے

لہٰذا دل و شریان کے مریض اسے بلا خوف و خطر اپنی خوراک میں شامل کرسکتے ہیں بلکہ ان کے مسلسل استعمال سے خون میں کولیسٹرول اور چکنائی کی مقدار میں کمی آسکتی ہے۔ چیری میں پائے جانے والے پروٹین جسم کی نشوونما اور شکست و ریخت کو ٹھیک کرنے کے لیے کام آتے ہیں۔ چیری میں کئی وٹامنز مثلاً وٹامن سی، وٹامن اے اور فولک ایسڈ کافی مقدار میں ہیں۔ وٹامن اے اور وٹامن سی، اینتھو سیاننز کی طرح اینٹی ایکسڈنٹس کے طور پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن جلد اور آنکھوں کی بینائی کے لیے ضروری ہے۔

About admin

Check Also

جلد حاملہ ہونے کے لئے یہ عمل کریں! پہلی رات حمل ٹھہرانے کا عمل

یہ عمل اور وظیفہ ان تمام مسلمان بہن بھائیوں کے لئے ہے جن کو اولاد …

Leave a Reply

Your email address will not be published.