Home / آرٹیکلز / حمل کے دوران کمردرد کا علاج

حمل کے دوران کمردرد کا علاج

آج آپ کو بتائیں گے کہ حمل کے دوران کمر میں درد کی کیا وجوہات ہیں؟ حمل کےدوران حاملہ عورت کو کمرمیں درد کیوں ہوتا ہے ؟ اور اس سے نجات کیسے پاسکتےہیں؟ حمل کے دوران کمر کے درد کا ہونا ایک عام سی بات ہے۔ اور حمل کےدوران تقریباً ہر عورت کو ہی اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور اس مرحلےمیں شدید درد میں مبتلا ہوتی ہے۔ اور اس کو بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے آپکو حمل کےدوران ہونے والے کمر درد کی وجوہات اور اس کاسادہ سا علاج بھی بتائیں گے۔ بس آپ نے چند باتوں پر عمل کرناہے ۔اور آپ حمل کے دوران کمر درد سے ہمیشہ کےلیے نجات پالیں گے ۔ حمل میں کمر درد ہونے کی پہلی بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کی باڈی کا سنٹر آف گریویٹی کا آگے کی طرف ہوجانا جس کو بیلنس کرنے کےلیے آپ کا جسم کا سارا وزن ، آپ کی ریڑ ھ کی ہڈی پر شفٹ کردیتا ہے۔

جس کی وجہ سے آپ کوکمر درد ہوتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ حمل کے دوران عورت کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ ایک نارمل حمل کے وقت حاملہ کا وزن پچیس پاؤنڈ سے لے کر پینتیس پاؤنڈ تک بڑھ سکتا ہے۔ ایک تو حاملہ عورت کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ اور دوسری طرف پیٹ میں پلنے والے بچے کا بھی وزن ہوتا ہے۔ حمل کے دوران ہونےوالے کمر درد کی سب سے بڑی وجہ آپ کے وزن کا بڑھ جاناہے۔ اس کے علاوہ عورتوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ گھنٹوں ایک ہی کام میں مگن رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے کمر میں دردہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اسی لیے کوشش کریں کہ آپ اپنےکام کو ڈیوائڈ کریں۔ اور آدھے گھنٹے سے زیادہ ایک ہی طرح سے کام نہ کریں۔ کچھ عورتوں کو حمل کےآخر ی دنوں میں شدید کمر کا درد ہوتا ہے۔ اور اتنا درد ہوتا ہے کہ برداشت سے باہر ہوجاتاہے۔ حتی ٰ وہ رات کو سکون سے سو بھی نہیں پاتیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا جسم نارمل حمل کےلیے تیار ہورہی ہوتی ہے۔ اور حمل کے بعد یہ خود بخود ٹھیک ہوجاتی ہے۔ اس کےعلاوہ کمر میں درد ہونے کی وجہ کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ حمل کی حالت میں آپ کو زیادہ کیلشیم اور وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اپنی غذا کو اچھا کریں۔ اور جو سپلی مینٹ آپکو ڈاکٹر نے تجویز کی ہوتی ہیں۔ ان کو باقاعدگی سے استعمال کریں۔ اگر کمر میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے۔ تو آپ لازمی کمر کا مساج کروائیں۔ اس سے آپ کو کافی سکون ملےگا۔ اس کے علاوہ آپ نارمل ایکسر سائز بھی کرسکتی ہیں۔ جو آپ کو کمر درد سے نجات حاصل کرنے میں کافی مفید ثابت ہوں گی۔

About admin

Check Also

تین بھوکے بچوں کی

ایک دفعہ کاذکرہے کہ دودوست جن میں بہت پیاراورالفت تھی .پیاراس قدرتھاکہ دونوں کی کوئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.