Home / آرٹیکلز / ”جب ایک انسان اچھے لوگوں سے بھی ڈرنے لگ جائے تو سمجھ لو کہ وہ ؟؟“

”جب ایک انسان اچھے لوگوں سے بھی ڈرنے لگ جائے تو سمجھ لو کہ وہ ؟؟“

اپنے کردار کی حفاظت کرتے رہا کریں کیونکہ ہر خاندان اور محفل میں آپ کے پیٹھ پیچھے کا تذ کرہ آپ کے کردار سے ہی شروع ہوتا ہے۔ سارے اوقات کے تماشے ہیں کوئی اچھا برا نہیں ہوتا۔ اچھی گفتگو پھول کی مانند خوبصورت ہوتی ہے۔ او رشیریں لہجہ اس پھول میں موجود خوشبو کی طرح جو آپ کے احساس کو ایک مدت تک مہکائے رکھتا ہے ۔ صیحح بات اور درستر لہجہ مخاطب کو اپنی طرف ایسے کھینچتا ہے

جیسے گلا ب کا پھول تتلیوں کو۔ انسان کی غلطیاں اسے وہ سبق دیتی ہیں جو اسے کسی بڑی سے بڑی درس گاہ سے نہیں مل سکتا۔ زندگی اگر کبھی مہربان ہو کر کسی شخص کے انتخاب کا موقع دے تو اپنے لیے ہمیشہ ایک ذمہ دار شخص کا انتخاب کریں۔ کیونکہ ایک ذمہ دار انسان خوب صورت انسان سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ہم زمانے کوکیوں باتیں کرتے ہیں۔ جب کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں ۔ کہ زمانہ ہمارے خود کے اچھا ہونے سے شاندار بنتا ہے۔ صبر وقت مانگتا ہے ۔ وقت صبر مانگتا ہے۔

صرف ان چند باتوں کا خیال رکھیں زندگی بہت آسان ہوجائے گی۔ ناراض ہونا چھوڑ دیں، سخت الفاظ اور لہجے کا استعمال چھوڑ دیں، بدگمانی کرنا چھوڑ دیں، منفی سوچوں کی جگہ اچھی سوچیں اپنائیں ، بے صبری کو ختم کردیں صبر کرنا سیکھ لیں ، غصہ کرنا چھوڑ دیں، زیادہ سوچنا چھوڑ دیں، اللہ تعالی ٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھیں، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت کرنا زندگی کامعمول بنا لیں، میٹھے بول سیکھ لیں مگر خوشامدی والے بول نہیں ہونے چاہیے ، اچھا بولیں اچھا سوچیں اور ہمیشہ اچھے کی امید رکھیں، ضد اور ہٹ دھرمی کو ترک کردیں، کسی معجزے کا انتظار نہ کریں

بلکہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے سخت محنت شروع کریں، حسد کرنا، جھوٹ بولنا، د ل میں کسی کے لیے بغض رکھنا اور خوشامدی کرنا چھوڑ دیں۔ اگر آپ ان باتوں پر عمل کریں گے آپ کی زندگی کے بے شمار غم کم ہوجائیں گے اور زندگی آپ کے لیے بہت زیادہ آسان ہوجائےگی۔ جو کچھ بھی آپ دوسروں کے لیے دل سے مانگتے ہیں اچھا یا برا آپ کی زندگی میں آپ کو ضرور ملتا ہے۔ کسی بیو قوف کے ساتھ بحث میں مت پڑو۔ پہلے وہ آپ کو اپنی سطح پر لے جائے گا پھر اپنے تجربے سے آپ کو ہرائے گا۔

پرانی عادت کی موجودگی میں آپ کے لیے نئے دروازے نہیں کھلنے والے ۔ معاف کردینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو کچھ آپ کے ساتھ کیا گیا ہے وہ ٹھیک ہے بلکہ معاف کرنے کا مقصد اپنا ذہنی سکون ہے معاف کر دینے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تعلقات دوبارہ قائم کیے جائیں۔ بدلے کی آگ زخم کوتازہ رکھتی ہے۔ اور ہمیں جلاتی رہتی ہے۔ مرد سب کچھ اپنے لیے نہیں کماتا ، عورت سب کچھ اپنے لیے نہیں پکاتی ، خوشیاں تقسیم کرنا ہی اصل خوشیوں کا سبب ہے۔ کسی کی بیٹی کو اتنی تکلیف دو جتنی اپنی بیٹی کے لیے سہہ سکو ورنہ دنیا گول کیوں ہے اللہ تمہیں سمجھا دے گا۔ دور حاضر کا ایک یہ بھی المیہ ہے کہ یہاں جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں جو بولتا ہے وہ کرتا نہیں اور جو سنتا ہے وہ سمجھتا نہیں۔

About admin

Check Also

عورت صرف بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے پہلے کیوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published.