Home / اسلامک / حضرت صالح ؑ نے اللہ کے حکم پر ایک اونٹنی کو پہاڑ سے نکالا

حضرت صالح ؑ نے اللہ کے حکم پر ایک اونٹنی کو پہاڑ سے نکالا

یہ وہ زمانہ تھا جب عرب میں قوم ثمود کا ڈنکا بجتا تھا۔ یہ لوگ زیادہ تر کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کو بڑی زرخیزی عطا کی تھی۔

مٹی میں بڑی طاقت تھی۔ فصل خوب ہوتی، پانی بھی بہت تھا۔ لوگوں نے کنویں کھودے ہوئے تھے۔ دراصل یہ اپنے وقت کے بہترین انجینئر تھے۔ان کے محلات، قلعے اور مکان ان کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ میدانوں میں بڑے بڑے محل تو ہر زمانے میں بنائے جاتے ہیں لیکن قوم ثمود کا حیران کن ہنر پہاڑ تراشنا تھا۔یہ لوگ کسی مناسب پہاڑ کا انتخاب کرتے، پھر اسے تراشنا شروع کر دیتے، یہاں تک کہ پہاڑ میں مکان بنا ڈالتے۔ یہ مکان غار نما ہر گز نہیں تھے بلکہ ان میں ہوا اور روشنی کا مناسب انتظام ہوتا۔ پہاڑ میں تعمیر ہونے کی وجہ سے یہ بہت مضبوط ہوتے تھے۔ انھی خوبیوں کی وجہ سے پورے علاقے میں ان جتنا خوش حال اور طاقت ور ملک کسی کا نہیں تھا۔ اور یہ خوش حالی اور طاقت ہی کا گھمنڈ تھا جس نے انھیں مغرور اور ظالم بنا دیا تھا۔ ارد گرد کی بستیوں پر ظلم کرنا ان کے لیے ایک کھیل کا درجہ رکھتا تھا۔خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کی وجہ سے ثمود کے لوگ عیش کی زندگی بسر کر رہے تھے اور اپنے نبی اور رسول حضرت ہود علیہ السلام کی تعلیمات کو بھلا چکے تھے۔انھی حالات میں ایک نوجوان کا چرچا ہوا۔ سرخ و سفید رنگ، لمبے قد اور مضبوط جس کا مالک یہ نوجوان عام لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ اسے اپنے زمانے کی فضول رونقوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔

اسے بت کدوں میں رکھے ہوئے بتوں سے بھی سخت نفرت تھی۔ لوگ اس کی زبان سے بتوں کے متعلق نفرت کے کلمات کئی دفعہ سن چکے تھے۔ لیکن اس کی شرافت اور دیانت کی وجہ سے اسے کچھ نہیں کہتے تھے۔اس نوجوان کا نام صالح تھا۔ ایک معزز قبیلے کا باوقار شخص، جسے بعد میں اللہ نے اپنا نبی بنایا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے شہر کے بڑے بڑے لوگوں کی دعوت کی۔ انھوں نے کھانا کھلانے کے بعد لوگوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور انھیں بلانے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا: اے لوگو! آج میں نے تمھیں وہ باتیں یاد کرانے کے لیے بلایا ہے، جن کو تم بھول چکے ہو۔ مجھے علم ہے کہ تم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ ہی نے تمھیں اور تمھاری زمین کو بنایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود تم اس کی عبادت کرنے کے بجائے جھوٹے خداؤں کے سامنے جھکتے ہو۔ اے میری قوم کے سردارو! یہ گمراہی چھوڑ دو، ایک اللہ کی عبادت کرو۔ وہی تمھارا اصل رب ہے، اسی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور سرکشی کا رویہ چھوڑ دو۔ حضرت صالح علیہ السلام کی گفتگو کے جواب میں ان سرداروں نے کہا: اے صالح! ہمیں تم سے بہت سی امیدیں تھیں۔ ہم تمھیں بہت معزز اور باوقار شخص سمجھتے تھے لیکن تم نے ہمیں گمراہ کہہ کر ہمارے باپ دادا کے دین کو گالی دی ہے۔ تمھاری کوئی بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ آخر ہم ان خداؤں کی پوجا کیوں چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے ہیں۔ تم نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے انھیں سمجھانا چاہا لیکن وہ ناراض ہو کر وہاں سے اٹھ آئے۔ انھوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو خبردار کیا کہ اگر انھوں نے یہ باتیں عام لوگوں میں کیں تو نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔حضرت صالح علیہ السلام نے سرداروں کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہ دی اور اپنی رسالت کا عام اعلان کر دیا۔

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ صالح نے رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ وہ حضرت نوح ؑ اور ہودؑ کی طرح کے رسول ہیں۔ ان کا انکار کرنے پر اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ مگر طاقت کے غرور میں پڑے ہوئے سرداروں اور مذہبی لیڈروں نے لوگوں کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کر رہے ہوتے اور گناہ کی زندگی بسر کر رہے ہوتے تو اللہ انھیں پورے عرب میں اتنی عزت نہ دیتا، ان کی زمینوں کو اتنا سرسبز نہ بناتا اور ان کے محل اور پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکان اتنے عمدہ نہ ہوتے۔بت خانوں کے مالک یعنی کاہن کہتے: اے لوگو! خود سوچو، جو ہاتھ گناہ گار ہوں، ان ہاتھوں میں اللہ یہ ہنر کیوں پیدا کرے گا جن کی وجہ سے وہ پوری دنیا میں معزز بن جائیں۔کچھ جھوٹے دانش ور دور کی کوڑی لائے اور کہنے لگے: دراصل اس (صالح علیہ السلام) کا علیحدہ اور تنہا رہنے سے (نعوذ باللہ) ذہنی توازن بگڑ گیا ہے۔ اس لیے یہ اپنے باپ دادا کو گمراہ قرار دے کر ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔ کچھ زیادہ ہمدردی جتاتے تو کہتے: بے چارے صالح پر کسی بد روح کا سایہ پڑ گیا ہے۔ بعض تو یہ کہنے سے بھی باز نہ آئے کہ صالح جادوگر ہو گیا ہے۔ کچھ سردار کہتے: ہمیں یقین ہے کہ صالح نے یہ سارا چکر اس لیے چلایا ہے کہ وہ لوگوں کو بے وقوف بنا کر ان کا سردار بن جائے۔ یہ بہت چالاک شخص ہے۔ لیکن حضرت صالح علیہ السلام نے سرداروں اور بت کدوں کے کاہنوں کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور اپنی تبلیغ جاری رکھی۔ آپ کی کوششوں سے کچھ لوگوں نے ایمان قبول کر لیا اور آپ کے رسول ہونے کا اقرار کر کے شرک اور بری باتوں سے باز آ گئے۔ان میں اکثر ایسے تھے جو غریب او رعام لوگ تھے۔

About admin

Check Also

جس گھر میں یہ سورۃ پڑھی جاتی ہے اس گھر میں رزق ہی رزق نازل ہوتا ہے

اسلام آباد نبی کریم ﷺ نےفرمایا:ہر چیزکی طہارت اور غسل ہوتا ہے اور ایمان والوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published.