Home / اسلامک / انسان پر مصیبت اور بیماریاں کیوں آتی ہیں

انسان پر مصیبت اور بیماریاں کیوں آتی ہیں

سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک جناب موسیٰ ؑ نے کہا اے میرے رب تو اپنے مومن بندے کو دنیا میں غربت زدہ اور تنگ حال بنا دیتا ہے اتنے میں جناب موسیٰ ؑ کے لئے جنت کا دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس کی طرف دیکھنے لگے پھر اللہ تعالیٰ نے کہا اے موسیٰ یہ جنت میں نے اسی مومن کے لئے تیار کی ہے پھر جناب موسی نے کہا اے میرے رب تیری عزت کی قسم تیرے جلال کی قسم اگر اس مومن کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤ ں کٹے ہوئے ہوں اور پھر اس کو اس کے یوم ولادت سے لے کر روزِ قیامت تک چہرے کے بل گھسیٹا جاتا رہے

اور لیکن اگر اس کا انجام یہ جنت ہوا تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی تنگی دیکھی ہی نہیں پھر موسیٰؑ نے کہا اے میرے رب تونے اپنے کافر بندے کے لئے دنیا میں بڑی وسعت پیدا کی ہے اتنے میں موسیٰؑ کے لئے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا گیا اور ان سے کہا گیا اے موسیٰ یہ جہنم میں نے اسی کافر کے لئے تیار کی ہے موسیٰؑ نے کہا اے میرے رب تیری عزت اور جلال کی قسم اگر اس کو اس کے یومِ تخلیق سے روزِ قیامت تک پوری دنیا دے دی جائے لیکن اس کا انجام یہ ہو تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی ایک اور صحابی ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے امراض اور ان کے ثواب کا ذکر کیا تو فرمایا جب مومن کو کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے اور پھر اللہ اسے اس سے عافیت و صحت عطافرمادیتا ہے تو وہ مرض اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ اور مستقبل کے بارے میں وعظ و نصیحت بن جاتی ہے اور جب منافق بیمار ہوتا ہے پھر اسے عافیت عطاکردی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے

جسے اس کے گھر والوں نے باندھ رکھا ہو اور پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہو اسے پتہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے اسے کیوں باندھ تھا اور کیوں چھوڑا ہے کسی شخص نے عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ بیماریاں کیا ہوتی ہیں اللہ کی قسم میں تو کبھی بیمار نہیں ہوا آپﷺ نے فرمایا ہمارے پاس سے چلے جاؤ تم ہم میں سے نہیں ہو حضور ﷺ نے فرمایا اللہ اس شخص کے چہرے کو ترو تازہ رکھے جس نے میرے سے کوئی حدیث سنی اور پھر جیسے سنی ویسے اسے آگے پہنچا دیا۔ اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

About admin

Check Also

جس گھر میں یہ سورۃ پڑھی جاتی ہے اس گھر میں رزق ہی رزق نازل ہوتا ہے

اسلام آباد نبی کریم ﷺ نےفرمایا:ہر چیزکی طہارت اور غسل ہوتا ہے اور ایمان والوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published.