میں نے اس سے چار ماہ کا بیٹا چھین لیا اور اسے میکے چھوڑ آیا. دراصل میں گھر والوں کے روز روز کے طعنوں سے تنگ آ چکا تھا۔۔
“تمہاری بیوی کوئی کام نہیں کرتی”
مجھے بھی ایسا ہی لگنے لگا تھا۔آخر تم کیا
کرتی ہو سارا دن؟ برتن ، کپڑے ، گھر کی صفائی تو کام والی
کر جاتی ہے. لیٹی ہی ر هتی ہو.
اس کے جانے کے بعد آج میری پہلی رات کا آغاز تھا. میرے پہلو میں کوئی مجھے اپنی شرارتوں سے ہنسانے والا نہیں تھا.
ہاں میرا بیٹا ضرور تھا۔جسے میں نے ابھی ابھی فیڈر دے کر سلایا تھا۔
آپ سمجھے نہیں….
دودهہ پلا نے سے لے کر بچے کو سلانے تک مجھے کیا کیا کرنا پڑا.میں تفصیل میں جانا چاہتا ہوں. میں اٹھا ااور کچن میں گیا. فیڈر کو صابن سے دھوکر میں نے چولہے پر پانی چڑھایا.فیڈر کو ابالا.
پھر دودھ بنانے کیلئے پانی نیم گرم کیا اور اس میں پاوڈر ڈالا. تب کہیں جا کر ایک فیڈر تیار ہوا .
دودھ پلانے کے بعد میں اسے کندھےسے لگا کر تھپکتا رہا. تا کہ دودھ ہضم ہو سکے. پھر اسکا پیمپر تبدیل کرنے کیلئے اسے لٹایا تو معلوم ہوا کہ بچے نے پاخانہ کیا ہوا ہے. اسے باتھ روم لے جا کر صاف کر کے واپس آیا تو اس نے دودھ کی الٹی کر دی. میں جلدی سے رومال اٹھانے کو لپکا..
خیر اسکو پیمپر دوبارہ لگایا اور بازووں میں جھلا کر سلانے لگا. دودهہ ابال کر اسے ٹھنڈا کیا اور فریج میں رکھ دیا. وہ ہوتی تو ملک شیک بنا کر میرے ہاتھ میں تھما دیتی.لیکن اب اتنے جھمیلوں میں کون پڑے. ابھی اپنی روٹی پکا کر کھالوں گا.
لیکن آٹا ؟؟؟
ابھی تو وہ گوندھنا پڑے گا.شکر ہے سالن تو پکا پڑا ہے. بس کٹوری میں ڈال کر اوون کا بٹن ہی دبانا ہے.میں ذرا بیڈ سے بکھیرا اٹھا لوں. پیمپر .. وائپس…کھلونے… فیڈر … شیٹس کو انکی مخصوص جگہوں پر رکھا اور
روٹی. نہیں. صبح آفس جانے کیلئے کپڑے بھی تو استری کرنے ہیں.
میں لگا کپڑے استری کرنے.
ابھی شرٹ پریس کی تھی کہ بیٹا رونے لگا. اب کی بار میں نے اسکو جھولے میں ڈالا اور جھولا جھلانے لگا. بھوک سے میرا برا حال تھا. اللہ اللہ کر کے بچے کو سلایا اور ایک ریسٹورنٹ پر کال کر کے کھانے ڈلیور کرنے کا آرڈر کیا. آدھے گھنٹے بعد کھانا میرے سامنے تھا۔
میں نے بڑے بڑے نوالوں میں کھانا ختم کر دیا کیونکہ میں جانتا تھاکہ اگر بیٹا دوبارہ جاگ اٹھا تو کھانا پڑا رہ جائیگا.پھر دوبارہ گرم کرنے کیلئے بھی ٹائم چاہیئے اور “مشقت” بھی. مجھے اکتاہٹ ہونے لگی. گھڑی گیارہ بجا رہی تھی.میں بستر پر ڈھے سا گیا.
سائرہ وہ چادر ہی الماری سے نکال دو. میں اوڑھ کر سونا چاہ رہا ہوں
لیکن نہیں…اب خود ہی اٹھ کر لینی پڑے گی
ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ یو.پی.ایس. بھی جواب دے گیا.پنکھا بند ہوگیا.اس سے پہلے کہ گرمی کے سبب میرا بیٹا جاگ جاتا اور چلانے لگتا ..میں نے بیڈ سے چھلانگ لگائی اور جھٹ سے دستی پنکھاالماری سے نکال لایا. میں اسکو پنکھا جھلنے لگا اور ساتھ ساتھ نیند کی شدت سے خود بھی جھولنے لگا. بارہ بجے بجلی آئی اور میں فورا ہی سو گیا
دو بجے بیٹے کے رونے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی ۔۔اچانک گہری نیند سے جاگنے پر میرے سر میں درد ہونے لگا. اسے بھوک لگی ہوئی تھی. میں سستی سے اٹھا اور اسے ڈبے کا دودھ بنا کر پلایا.اڑھائی بجے کے قریب بیٹا سو گیا اور میں بھی
اسکے بعد بیٹا کب جاگا اور کب تک روتا رہا مجھے نہیں معلوم. البتہ جب صبح آٹھ بجے آنکھ کھلی تو وہ رو ہی رہا تھا۔اور اسکے پیمپر سے مواد نکل کر بیڈ شیٹ میں جذب ہو رہا تھا۔جلدی سے اٹھا. پیمپر تبدیل کیا.دودھ پلایا
بیڈ شیٹ کو دھویا اور ایک دھلی ہوئی بیڈ شیٹ بچھائی. سوا نو ہو چکے تھے. ناشتے میں جو میں دہی کھاتا تھا وہ سائرہ گھر میں بنا لیتی تھی. پتہ نہیں کس پہر بناتی تھی.
میں نے چائے بنانے کی غرض سے ساس پین میں دودهہ انڈیلا اور سوچنے لگا
کونسا وقت تھاجب سائرہ مصروف نہیں ہوتی تھی. میری خدمت میں بھی کوئی کمی نہیں آنے دی.گھر میں صرف وہی تین کام تو نہ تھے جن کیلئے میں نے نوکرانی رکھ دی تھی . ایک بچے کو سنبھالنا ہی کافی تھااسکو تھکن سے چور کرنے کیلئے. لیکن وہ مجھےوقت پر کھانا دیتی
میں تھک جاتا تو مجھے دباتی.میں اداس ہوتا تو مجھے ہنساتی.اور میری دلجوئی کرتی. میں کاروباری معاملات میں کشمکش میں پڑ جاتا تو وہ میرا حوصلہ بندھاتی. میں سوچوں میں گم تھا۔دودھ ابل کر شیلف پر آچکا تھا-میں آہستہ آہستہ شیلف پر کپڑا لگانے لگا
تم کرتی کیا ہو سارا دن
واہ تمہارا جسم کیوں درد کرنے لگا
کونسا پہاڑ ڈہایا ہے تم نے
اور وہ پہلو بدل لیتی
شاید میرے طنزیہ جملوں پر آنسو بہاتی ہوگی
پر میں ظالم انسان نے پرواہ نہیں کی کبھی
کچھ دیر بعد خود ہی سائیڈ بدل کر میرے چہرے پر جھک جاتی.
” آئی لو یو”
تو میں جوابا مسکرا دیتا.اور وہ اصرار کرنے لگتی .. نہیں آپ آئی لو یو ٹو بولیں مجھےاسکی شرارتیں یاد آنے لگیں.
صبح کے دس بج رہے تھے۔اور کام پر نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے چھٹی ماری
اور وہ سب اپنے اپنے کمروں میں مشغول تھے.جو ابھی کل ہی مجھے کہہ رہے تھےکہ تمہاری بیوی کوئی کام نہیں کرتی.
کسی نے مجھےچائے کا ایک کپ بھی بنا کر دینے کی زحمت نہیں کی.
میں نے بچے کو گاڑی میں ڈالا اور گاڑی ان راستوں پر دوڑا دی جو راستے مجھےہمیشہ کیلئے سائرہ کے ساتھ جوڑنے والے تھے.
وہاں پہنچ کر میں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور وه ہمیشہ کی طرح بڑا دل کر کے چلی آئی میرے ساتھ
قارئین شادی شده حضرات سے میری درخواست ہے کہ ٹھیک ہے سب کا حق آپ پر ہےسب آپ کو مشوره دے سکتے هیں لیکن سب سے زیاده حق آپ پر آپ کی بیوی کا هے اسکو ٹائم دیں اس سے پوچھیں اسکی دلجوئی کریں سارا دن بیغیر مزدوری کے بنا لالچ آپکی آپکے بچوں کی آپ کے خاندان کی وه خدمت کرتی رهتی اور بدلے میں اسے کیا ملتا سب آپ جانتے ہیں ..
خدا را اپنی سوچ بدلیے کیونکہ یہی کچھ کل اپکی بیٹی یا بہن کے ساتھ بھی ہونا ہے.
Anmol Stories Pakistan's Best Story Website