Home / آرٹیکلز / ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ بلغ سے ( حضرت ) حاتمؒ حج کے ارادے سے نکلے راستے میں شہر دیکھ کر ٹھہر گئے ( آپ ) ایک تاجر کے مہمان تھے تاجر نے ایک دن ان سے کہا کہ شہر کے ایک ( بہت بڑے عالم بیمار ہیں میں ان کی عیادت کے لئے جارہا ہوں ، حضرت حاتمؒ نے کہا کہ اگر عالم ہے تو میں بھی چلتا ہوں کیونکہ فقیہ کی عیادت کی بڑی فضیلت ہے بلکہ النظر الى الفقيه عبادۃ کی فقیہ کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ در اصل یہ قاضی القضاء محمد بن مقاتل تھے اس زمانے میں بیمار ہو گئے تھے جب حضرت حاتمؒ اس (مہمان ) تاجر کے ساتھ قاضی صاحب کے دروازے پر پہنچے تو دیکھا که دروازہ کیا ہے؟ وہ تو ایک بڑی عظیم الشان ڈیوڑھی کا استانہ ہے حضرت حاتم ”سوچ وفکر میں پڑ گئے اور بولے کہ باب عالم على هذه الحال؟“۔ ایک عالم کے دروازے کا یہ حال ہے؟ تھوڑی دیر بعد اندر سے بلاوا آیا جب ڈیوڑھی میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں پھولوں کا چمن ایک طرف ہے فوارے سے پانی اچھل رہا ہے اور ہر ایک کمرے کے سامنے پردے پڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کا ایک مجمع ہے (یعنی نوکروں اور چاکروں کا مجمع ہے) حضرت حاتم” کی حیرت بڑھتی جارہی تھی آخر کار قاضی صاحب کے سامنے پہنچے دیکھا کہ ایک مکلف گدا بچھا ہوا ہے اس پر قاضی صاحب آرام فرما رہے ہیں قاضی صاحب سرہانے لائنیں بنائے ہوئے غلام کھڑے ہیں، مہمانوں کو

دیکھ کر قاضی صاحب اپنی مسند پر بیٹھ گئے اور حضرت حاتمؒ سے بھی کہا کہ تشریف لائیں بیٹھیں لیکن وہ کھڑے ہی رہے جب قاضی صاحب نے بیٹھنے پر اصرار کیا اور ان کو دیکھا کہ انکار پر انکار کر رہے ہیں تو قاضی نے حاتم اصمؒ سے پوچھا کہ آپ کسی ضرورت سے تشریف لائے ہو؟ حضرت حاتم نے کہا کہ ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں ، قاضی صاحب نے کہا پوچھئے ، ذرا اطمینان کے ساتھ بیٹھ جائیں غلام سامنے کھڑے تھے۔ تکئے قاضی صاحب کے پیٹھ کے پیچھے رکھ دیئے گئے اور قاضی صاحب ان سے ٹیک لگائے بیٹھ گئے انتظار کرنے لگے کہ خاتم اصمؒ ” کیا پوچھیں گے اس کے بعد یہ مکالمہ دونوں میں شروع ہوا۔ حاتم اصم : آپ نے یہ علم کن لوگوں سے سیکھا ہے؟ قاضی: بڑے بڑے معتبر اساتذہ سے۔ حاتم اسم : ان کے پاس علم کہاں سے آیا تھا ؟ قاضی : رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہے۔ حاتم اسم : رسول اللہ ﷺ کے پاس علم کہاں سے آیا تھا۔ قاضی : جبرئیل علیہ السلام لائے تھے۔ حاتم اسم : ہاں ! تو ذرا یہ فرما ئیں کہ آپ کے پاس علم کا جو ذخیرہ ہے وہی ذخیرہ ہے جسے اللہ سے جبرئیل نے پایا اور جبرئیل نے رسول اللہ کو پہنچایا اور رسول اللہ سے یہ ذخیرہ صحابہ تک پہنچا، اور صحابہ سے آپ کے بڑے بڑے معتبر اساتذہ تک پہنچا اس ذخیرے میں کہیں ( قاضی کی شان و شوکت کی طرف اشارہ کر کے ) اس کی بھی اطلاع دی گئی ہے کہ جس کا گھر امیروں کے گھر کے مانند ہوگا اور جس کے پاس امیرانہ ٹھاٹ باٹ ہوگا اللہ کے نزدیک اسی کا مرتبہ سب سے زیادہ بلند ہو گا ؟ قاضی نہیں یہ تو میں نے نہیں سنا۔ حاتم اصمؒ یہ نہیں سنا تو پھر کیا ( قاضی کی شان وشوکت کی طرف اشارہ کر کے ) اس کا علم بھی آپ تک پہنچا ہے یا نہیں کہ دنیا سے رخ پھیر کر آخرت کی تعمیر میں جو زیادہ مشغول رہیں گے اور غرباء اور مسکین سے جو زیادہ محبت کریں گے اور آئندہ زندگی کی تیاری کرتے رہیں گے خدا کے نزدیک ان ہی کا مرتبہ بلند ہو گا اسی کے ساتھ حاتم اصمؒ کو جوش آیا اور اسی جوش میں فرمانے لگے۔ تم نے اپنے آپ کو کن لوگوں کی زندگی سے مطمئن کر رکھا ہے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اور امت کے صالحین کی زندگی سے؟ یا فرعون ونمرود کی زندگی سے تمہارے قلب نے اطمینان کو پایا ہے وہی فرعون و نمرود کی سلطنت سے جس سے اینٹ اور چونے کی تعمیر کی ابتداء ہوئی۔ قاضی ابن مقاتل ( غور و فکر سے ) سن رہے تھے اور حاتم اسم فرماتے جارہے تھے کہ اے علماء سو تم ہی کو

ایک بیچارا غریب جاہل مسلمان دنیا دار دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ جب ایک عالم اس حال میں ہے تو پھر اپنے آپ کو میں اس سے زیادہ برے حال میں نہیں پاتا۔ کہتے ہیں کہ بیچارے قاضی کے ہوش حاتم اسم کی اس تقریر سے لرز گئے تھے گھٹنے کی بیماری کم ہونے کی بجائے اور اضافہ ہو گیا ( قاضی کو ) اسی حال میں چھوڑ کر حاتمؒ ان کے گھر سے باہر نکل گیا۔۔ ابو نعیم آگے تحریر فرماتے ہیں کہ اہل رائے کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت حاتمؒ سے عرض کیا کہ حضور! قزوین کے طنافسی عیش پرستی میں ان سے بہت آگے بڑھے ہوئے ہیں حضرت حاتم اصمؒ طنافسی کے پاس پہنچے اور ایک نا واقف شکل میں قاضی طنافسی سے وضو کرنے کا طریقہ پوچھا انہوں نے بتلا دیا حاتم اصمؒ نے کہا میں آپ کے سامنے وضو کرتا ہوں کوئی غلطی رہ جائے تو درست کرادیجئے گا یہ کہہ کر وضو کرنے لگے ابتداء میں تو تین تین دفعہ ہر عضو کو دھویا جب ہاتھ دھونے کی باری آئی تو بجائے تین دفعہ کے چار دفعہ ہاتھوں کو دھویا قاضی طنافسی نے ٹو کا کہ تم نے غلطی کی ہے پوچھا کہ کیا غلطی کی ہے قاضی طنافسی نے کہا تین بار سے زیادہ دھونا پانی کو بریکار ضائع کرتا ہے اور شریعت میں اس کو اسراف ( فضول خرچی ) قرار دیا گیا ہے تب حضرت حاتمؒ نے سر اٹھایا اور کہنے لگے سبحان اللہ میں غریب آدمی تو ایک پانی کا چلو بہا کر اسراف کا مرتکب ٹھہرایا گیا اور جناب والا نے یہ طمطراق جو اکٹھا کر رکھا ہے آخر یہ کیا ہے؟ قاضی طنافسی سمجھ گئے کہ حاتم اصمؒ کا مطلب وضو کا طریقہ سیکھنا نہیں بلکہ انہیں متنبہ کرنا تھا چنانچہ ان پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ گھر گئے تو چالیس دن تک باہر نہیں نکلے۔ ( بحوالہ حلیة الاولیاء جلد نمبر (۸) حق بات کہنے کا اپنا ایک رنگ ہوتا ہے اور یقیناً یہ رنگ اپنا اثر دکھاتا ہے چنانچہ اس واقعہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں بھی چاہئے کہ ہمیشہ حق بات کہیں اور اس واقعہ سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ہم صرف دنیا ہی کے پیچھے نہ بھا گئیں بلکہ اپنی آخرت کو بھی مدنظر رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العلمین۔

About admin

Check Also

انصاف و اعتدال۔۔۔!!!

خاندان کی تمام لڑکیوں سے زیادہ ہوشیار اور چالاک تھی میں۔ دیکھنے میں بہت پتلی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *