Home / آرٹیکلز / ایک بادشاہ کو جنگل

ایک بادشاہ کو جنگل

ایک بادشاہ کو جنگل میں سفر کرتے ایک سانپ نے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود زہر کو جب بادشاہ کے جسم میں پھیلینے سے نہ روک پایا تو زارو قطار رونے لگا۔ اتنے میں ایک درویش سا شخص وہاں آیا۔ بادشاہ کو زہر کے درد سے تڑپتے ہوئے دیکھا تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا تھوک دیا اور بھاگ گیا۔ بادشاہ کے سارے ساتھی بادشاہ کی فکر میں تھے اس لئے دیوانے کی اس حرکت پر کوئی بھی درویش کے پیچھے اُسے گرفتار کرنے نہ گیا۔ شاہی طبیب نے تھوک صاف کرنے کے لئے ایک رومال پکڑا اور بادشاہ کی زہر سے نیلی ہوتی ٹانگ پر سے تھوک صاف کرنے لگا مگر پھر حیران ہوتے ہوئے رُک گیا، اُس نے انگلی سے تھوک کو سانپ کے ڈسے پر اچھی طرح مل دیا جس سے فوراً ہی زہر کا اثر زائل ہو گیا۔ بادشاہ ہوش میں آئے اور جب انہیں درویش کے تھوک کے قصے کا پتہ چلا تو بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ اس درویش کو فوراً ڈھونڈ کر حاضر کیا جائے۔ سپاہی چاروں طرف پھیل گئے اور تھوڑی ہی دیر میں درویش کو

ایک درخت کے نیچے جا لیا اور پکڑ کر بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔ بادشاہ نے ادب سے درویش سے کہا؛ ”ہم گناہ گاروں کی آنکھ آپ کو پہچان نہ سکی جس کے لئے میں معذرت چاہتا ہوں۔ آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری طرف سے یہ قیمتی پوشاک اور عربی گھوڑا قبول کیجیئے۔” درویش نے مسکرا کر بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا؛ ”یہ گھوڑا اور پوشاک بہت قیمتی ہے، میں یہ پوشاک پہن کر اس گھوڑے کے لئے گھاس کاٹوں گا تو اچھا نہیں لگوں گا۔” بادشاہ نے کہا؛ ”آپ فکر نہ کریں گھوڑے کے ساتھ خدمت گار بھی دیئے جائیں گے۔” درویش بولا؛ ”اتنی قیمتی پوشاک، قیمتی گھوڑے اور خادموں کے ساتھ میں رہوں گا کہاں۔” اس دفعہ بادشاہ مسکرایا اور بولا؛ ”آپ کے لئے ایک عالیشان رہائش گاہ بھی تعمیر کر دی جائے گی۔” درویش نے پوچھا؛ ”اتنے مال اور دولت اور خادموں کے ساتھ اس رہائش گاہ میں میں تنہا رہوں گا؟” بادشاہ بولو حضور؛ “میری بیٹی شہزادی گُلنار کی شادی آپ سے کر دی جائے گی۔” دریش بولا؛ ”اگر آپ نے میری شادی کی تو پھر

میرے بچے بھی ہوں گے۔” بادشاہ نے جواب دیا؛ ”بالکل ہوں گے، ہماری دعا ہے کے آپ کو کثیر اولاد ملے۔” درویش بولا؛ ”اگر اُن بچوں میں سے کسی بچے کو خدانخواستہ کُچھ ہو گیا تو پھر رونا کس کو پڑے گا۔” بادشاہ نے جواب دیا؛ “حضور اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو رونا تو پھر آپ کو ہی پڑے گا۔” درویش مسکرا کر بولا؛ ”اگر یہ سارا کُچھ لے کر مجھے رونا ہی پڑے گا، تو بادشاہ سلامت آپ اپنا گھوڑا اور قیمتی لباس واپس لے لیں، میں اپنی درویشی میں خوش ہوں۔” *دل اسی سے لگاؤ جس نے دل بنایا ہے ، دنیا سے لگاؤ گے تو آنسو ہی ملیں گے

About admin

Check Also

انصاف و اعتدال۔۔۔!!!

خاندان کی تمام لڑکیوں سے زیادہ ہوشیار اور چالاک تھی میں۔ دیکھنے میں بہت پتلی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *