Home / آرٹیکلز / بابا جی کونے میں خاموش

بابا جی کونے میں خاموش

بابا جی کونے میں خاموش بیٹھے، آنکھوں میں آنسووں کا ایک سیلاب لئے ہوئے تھے۔ میری دوستی کو کئی سال ہو گئے ہیں ان سے۔ میں نے کبھی اس طرح پریشانی میں انہیں نہیں دیکھا۔ ” کیا ہوا بابا جی؟ ” میں نے از راہ ہمدردی پوچھا! ” نقصان ہو گیا بیٹا ” بابا جی کی بات سن کر میری ہنسی چھوٹنے والی تھی۔ ایک کڑاہی، ایک چولہا، تھوڑا سا تیل اور تھوڑا سا پکوڑوں کا سامان۔ کیا نقصان ہوا ہو گا؟! مگر میں نے ضبط کرنا ہی مناسب جانا۔ “پوری زندگی کی محنت بے سود ہو گئی بیٹا”۔ نہ جیب بھری نہ جھولی۔ کام دھندھے کا گر ہی سمجھ نہیں آیا۔ محنت محنت محنت، سب بے سود! کاروبار سمجھ بھی آیا تو اس عمر میں، جب زندگی کی ناؤ نے ہچکولے کھانے شروع کر دیے ہیں۔ بابا جی کی باتیں اکثر میرے سر سے گزر جاتی ہیں -آج بھی ایسا ہی تھا- “اتنا اچھا کاروبار تھا۔ ایک لگاؤ ستر کماؤ۔

یہاں بھی وہاں بھی۔ نقصان کا فکر نہ غم۔ یار کسی نے بتایا ہی نہیں۔ پکوڑے بنانے میں ہی عمر گزار دی میں نے” ” آج کون مسیحا آ گیا آپ کے پاس؟ ” میں نے از راہ مذاق پوچھا۔ ” وہ سامنے دیکھ رہے ہو ” بابا جی نے سامنے بیٹھے خستہ حال فقیر کی طرف اشارہ کیا۔ ” ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ میرے پاس آیا۔ بھوکا تھا، میں نے اپنی روٹی دے دی۔ کہنے لگا؛ یار بانٹ کے کھانے میں برکت بھی ہے مزہ بھی! تھوڑی خود کھائی، تھوڑی مجھے دی، تھوڑی پرندوں کو ڈال دی۔ جاتے ہوئے کہنے لگا۔ کاروبار کرو تو الله سے، اسکے نام پہ دو اور بے فکر ہو جاؤ۔ ستر گنا کا وعدہ ہے۔ بے شمار دینا اس کی شان ہے۔ دنیا چاہو دنیا لے لو، آخرت چاہو آخرت کا سودا کر لو۔ جب سے میری سمجھ میں نہیں آ رہا، گیا وقت کیسے واپس لاؤں؟! میں نے تو منافع والا سودا ہی نہیں کیا۔۔۔! “میں تو یہی سمجھتا رہا، یہی میرا نصیب ہے اور اسی پہ زندگی بھر قناعت کیے رہا۔ ارے بیٹا ! آج پتہ چلا نصیب کیسے بدلا جاتا ہے۔ خود بھی الله کے ہو جاؤ اور جو کچھ پاس ہے وہ بھی الله کی رضا پہ دے ڈالو۔ بس نصیب آپ کے ہاتھ میں! مانگتے جاؤ وہ دیتا جائے گا۔ ” پریشان ہوں اتنی دیر کیوں ہو گئی ” یہ کہتے ہی بابا جی نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔

About admin

Check Also

انصاف و اعتدال۔۔۔!!!

خاندان کی تمام لڑکیوں سے زیادہ ہوشیار اور چالاک تھی میں۔ دیکھنے میں بہت پتلی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *